قرآن مجید پیغمبراکرم کے زمانہ میں مرتب ھوچکا تھا یا بعد میں ترتیب دیا گیا؟

حضرت محمد مصطفےٰ
Typography
  • Smaller Small Medium Big Bigger
  • Default Helvetica Segoe Georgia Times

جیسا کہ ھم جانتے ھیں کہ قرآن مجید کے پھلےسورے کا نام ”فاتحة الکتاب“ ھے، ”فاتحة الکتاب“ یعنی کتاب(قرآن) کی ابتدااور پیغمبراکرم(ص)سےمنقول بہت سی روایات کے پیش نظر یہ نتیجہ نکلتا ھے کہ خود آنحضرت(ص)کے زمانہ میں اس سورہ کو اسی نام سے پکارا جاتا تھا۔

یھیں سے ایک دریچہ اسلام کے مسائل میں سے ایک اھم مسئلہ کی طرف وا ھوتا ھے اور وہ یہ کہ ایک گروہ کے درمیان یہ مشھور ھے کہ(پیغمبراکرم(ص)کے زمانہ میں قرآن پراکندہ تھا بعد میں حضرت ابوبکر یا عمر یا عثمان کے زمانہ میں مرتب ھوا ھے)، قرآن مجید خود پیغمبراکرم(ص)کے زمانہ میں اسی ترتیب سے موجودتھا جو آج ھمارے یھاں موجود ھے، اور جس کا سر آغاز یھی سورہ حمد تھا، ورنہ تو یہ پیغمبراکرم(ص)پر نازل ھونے والاسب سے پھلا سورہ نھیں تھا اور نہ ھی کوئی دوسری دلیل تھی جس کی بناپر اسے ”فاتحة الکتاب“ کے نام سے یاد کیا جاتا۔

اس کے علاوہ اور بہت سے شواھد اس حقیقت کی تائید کرتے ھیں کہ قرآن کریم اسی موجودہ صورت میں پیغمبراکرم(ص)کے زمانہ میں جمع ھوچکا تھا۔

”علی بن ابراھیم(رہ)“ حضرت امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ھیں کہ حضرت رسول خدا نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: قرآن کریم حریر کے کپڑوں، کاغذ اور ان جیسی دوسری چیزوں پر متفرق ھے لہٰذا اس کو ایک جگہ جمع کرلو“ اس کے بعد مزید فرماتے ھیں کہ حضرت علی علیہ السلام اس نشست سے اٹھے اور قرآن کو ایک زرد رنگ کے کپڑے پر جمع کیا اور اس پر مھر لگائی:

”وَانطلقَ عَليَّ(ع)فَجمعہُ فِي ثوبٍ اٴصفرٍ ثُمَّ خَتَم علَیْہِ“[1]

ایک دوسرا گواہ: ”خوارزمی“ اھل سنت کے مشھور و معروف موٴلف اپنی کتاب ”مناقب“ میں ”علی بن ریاح“ سے نقل کرتے ھیں کہ قرآن مجید کو حضرت علی بن ابی طالب اور ابیّ بن کعب نے پیغمبراکرم(ص)کے زمانہ ھی میں جمع کردیا تھا۔

تیسرا گواہ: اھل سنت کے مشھور و معروف موٴلفحاکم نیشاپوری اپنی کتاب ”مستدرک“ میں زید بن ثابت سے نقل کرتے ھیں:

زید کہتے ھیں: ”ھم لوگ قرآن کے مختلف حصوں کو پیغمبراکرم(ص)کی خدمت میں جمع کرتے تھے اور آنحضرت(ص)کے فرمان کےمطابق اس کی مناسب جگہ قرار دیتے تھے، لیکن پھر بھی یہ لکھا ھوا قرآن متفرق تھا،حضرت رسول خدا(ص)نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا کہ اس کو ایک جگہ جمع کردیں، اور ھمیں اس کی حفا ظت کے لئے تا کید کیاکرتے تھے“۔

عظیم الشان شیعہ عالم دینسید مرتضیٰ کہتے ھیں: قرآن مجید پیغمبراکرم (ص)کے زمانہ میں اسی موجودہ صورت میں مرتب ھوچکا تھا“[2]

طبرانی اور ابن عساکر دونوں ”شعبی“ سے نقل کرتےھیں کہ پیغمبراکرم (ص)کے زمانہ میں انصار کے چھ افراد نے قرآن کو جمع کیا۔[3] اور قتادہ نقل کرتے ھیں کہ میں نے انس سے سوال کیا کہ پیغمبراکرم(ص)کے زمانہ میں کن لوگوں نے قرآن جمع کیا تھا؟ تو انھوں نے:ابیّ بن کعب، معاذ، زید بن ثابت اور ابوزید کا نام لیا جو سبھی انصار میںسے تھے[4] اس کے علاوہ بھی بہت سی روایات ھیں جو اسی مطلب کی طرف اشارہ کرتی ھیں کہ اگر ھم ان سب کو بیان کریں تو ایک طولانی بحث ھوجائے گی۔

بھر حال شیعہ اور سنی کتب میں نقل ھونے والی روایات جن میں سورہ حمد کو ”فا تحة الکتاب“ کا نام دیا جانا، اس موضوع کو ثابت کرنے کے لئے کافی ھے۔

سوال:

یھاں ایک سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ کس طرح اس بات پر یقین کیا جاسکتا ھے جبکہ بہت سے علماکے نزدیک یہ بات مشھور ھے کہ قرآن کریم کو پیغمبراکرم(ص)کی وفات کے بعد ترتیب دیا گیا ھے(حضرت علی ﷼کے ذریعہ یا دوسرے لوگوں کے ذریعہ)

اس سوال کے جواب میں ھم یہ کہتے ھیں: حضرت علی علیہ السلام کا جمع کیا ھوا قرآن خالی قرآن نھیں تھا بلکہ قرآن مجید کے ساتھ سا تھ اس کی تفسیر اورشان نزول بھی تھی۔

البتہ کچھ ایسے قرائن وشواھد بھی پا ئے جا تے ھیں جن سے پتہ چلتاھے کہ حضرت عثمان نے قرائت کے اختلاف کودور کرنے کے لئے ایک قرآن لکھا جس میں قرائت اور نقطوں کا اضافہ کیا(چونکہ اس وقت تک نقطوں کا رواج نھیں تھا) بعض لوگوں کا یہ کھنا کہ پیغمبراکرم(ص)کے زمانہ میں کسی بھی صورت میں قرآن جمع نھیں کیا گیا تھا بلکہ یہ افتخار خلیفہ دوم یا حضرت عثمان کونصیب ھوا، تو یہ بات فضیلت سازی کا زیادہ پھلو رکھتی ھے لہٰذا اصحاب کی فضیلت بڑھا نے کے لئے نسبت دیتے ھیں اورروایت نقل کرتے ھیں۔

بھر حال اس بات پرکس طرح یقین کیا جاسکتا ھے کہ پیغمبراکرم(ص)اتنے اھم کام پر کوئی توجہ نہ کریں جبکہ آنحضرت(ص)چھوٹے چھوٹے کاموں کو بہت اھمیت دیتے تھے، کیا قرآن کریم اسلام کے بنیادی قوانین کی کتاب نھیں ھے؟! کیا قرآن کریم تعلیم و تربیت کی عظیم کتاب نھیں ھے؟! کیا قرآن کریم اعتقادات نیز اسلامی منصوبوں کی بنیادی کتاب نھیں ھے؟! کیا پیغمبراکرم(ص)کے زمانہ میں قرآن کریم کے جمع نہ کرنے سے یہ خطرہ درپیش نہ تھا کہ اس کا کچھ حصہ نابود ھوجائے گایا مسلمانوں کے درمیان اختلاف ھوجائے گا؟!

اس کے علاوہ مشھور و معروف حدیث ”ثقلین“ جس کو شیعہ اور سنی دونوں فر یقوں نے نقل کیا ھے کہ پیغمبراکرم(ص)نے فرمایا: ”میں تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارھا ھوں:ایک کتابخدا (قرآن) اور دوسرے میری عترت(اھل بیت (ع))۔۔۔“ اس حدیث سے بھی ظاھر ھوتا ھے کہ قرآن کریم ایک کتاب کی شکل میں موجود تھا۔

اور اگر ھم دیکھتے ھیں کہ بعض روایات میں بیان ھوا ھے کہ خود آنحضرت (ص)کی زیرنگرانی بعض اصحاب نے قرآن جمع کیا، اوروہ تعداد کے لحاظ سے مختلف ھيں تواس سے کوئی مشکل پیدا نھیں ھوتی، کیو نکہ ممکن ھے کہ ھر روایت ان میں سے کسی ایک کی نشاندھی کرتی ھو۔[5]


[1] تاریخالقرآن ، ابو عبداللہ زنجانی صفحہ ۲۴۔

[2] مجمعالبیان ، جلد اول، صفحہ ۱۵۔

[3] منتخب کنز العمال ، جلد ۲، صفحہ ۵۲۔

[4] صحیح بخاری ، جلد ۶، صفحہ ۱۰۲۔

[5] تفسیر نمونہ ، جلد اول، صفحہ ۸۔

 

Comments powered by CComment

Grid List