مشرق وسطی و جنوب ایشیا اور شمال افریقا میں مسلکی و قومی اختلافات تیزی سے وسعت اختیار کر رہے ہیں اور جس کے نتیجے میں ہم ایسے نیم فوجی شدت پسند بنیاد پرست گروہوں اور خودکش حملوں اور دنیا بھر کی امنیت کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر، یوروپ سے لیکر امریکہ اور مشرقی ایشیا تک عام لوگوں کے قتل کا مشاہدہ کر رہے ہیں
مولانا سید اعجاز حسین موسوی
مشرق وسطی و جنوب ایشیا اور شمال افریقا میں مسلکی و قومی اختلافات تیزی سے وسعت اختیار کر رہے ہیں اور جس کے نتیجے میں ہم ایسے نیم فوجی شدت پسند بنیاد پرست گروہوں اور خودکش حملوں اور دنیا بھر کی امنیت کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر، یوروپ سے لیکر امریکہ اور مشرقی ایشیا تک عام لوگوں کے قتل کا مشاہدہ کر رہے ہیں، اس وقت کوئی بھی جگہ ایسی نہیں دکھائی دیتی جو اس طرح کے حوادث سے محفوظ ہو۔ اس عرصے میں قابل غور نکتہ اس وقت وجود میں آیا جب پیرس کے حملے کے رن عمل میں اور اس کے بعد فرانس کے ایک اور شہر نیس میں حملہ ہوا جسے موت کے ٹریلی کا نام دیا گیا، فرانس کے صدر جمہوریہ نے اپنے بیان میں اعلان کیا کہ دنیا اس وقت اسلامی دھشت گردی کا شکار ہے۔ اس مقالے میں فرانسو اولاند کے اس دعوی کا تجزیہ پیش کیا جائے گا اور یہ بھی کہ موجودہ مذھبی اختلافات کا سرچشمہ کیا ہے؟ اور کس حد تک ہم مذھب اور دینی امور کو بذات خود اس کی منزل قرار دے سکتے ہیں؟ اس تحلیل میں کوشش کی گئی ہے کہ مسلکی اختلافات اوراسلامی بنیاد پرست گروہوں کے رشد و ارتقائ کی تشکیل و شکل گیری کے اسباب کی تحقیقی کی جائے، جو مذھبی قدامت پسندی کی علامت کے ساتھ شدت پسندی و افراط گری کے بے جا استعمال سے متعارف ہوئی ہے، اس بحران کی علت کا پتہ لگا سکیں۔
متحدہ روس کا افغانستان پر حملہ
بین الاقوامی ارتباط کے مطالعات کی روشنی میں دین سیاسی حالات و واقعات کی تبیین میں ایک موثر عنصر میں تبدیل ہو چکا ہے، اس تاثئر گزاری کا ثقافتی مطالعات کی تھیوری میں واضح انداز میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں سیاسی اسلامی تحریکوں کے ظہور میں، خاص طور پر ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ۱۹۷۹ سن عیسوی میں، اور اس کے اثرات داخلی طور پر اور مشرق وسطی کے ممالک میں اس کی خارجہ سیاست کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن اولین مسلکی اختلاف کی تاریخ ۸۰ کی دہائی میں جنوب ایشیا میں افغانستان سے روسی اتحادی افواج کے انخلائ کے بعد کی طرف پلٹتی ہے۔ اس زمانے میں اہل سبت کے مذھبی مدارس کے دینی طلاب پاکستان میں وہاں کی ملکی امنیتی تنظیم آئی ایس آئی (ISI) اور امریکی حکومت کی پشت پناہی کے ساتھ افغانستان میں روسی افواج سے مقابلہ کے پیش نظر تشکیل و تربیت کے بعد وجود میں آئی، ان طلبائ نے بنیاد پرست طالبان نامی گروہ کی تاسیس کی۔
طالبان کی تقویت، پاکستان و امریکہ کے مشترک منافع
افغانستان سے روسی اتحادی افواج کے نکلنے اور اس ملک میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد پاکستان کے پاس طالبان کی حمایت کے لئے بہت سے دلائل تھے۔
الف: ھندوستان سے رقابت: پاکستان جو کہ ہمیسشہ افغانستان کو اپنے لئے خلوت گاہ اور دیرینہ زیر تسلط ریاست کے طور پر تصور کرتا تھا چونکہ وہ افغانستان میں اپنے مشرقی ہمسایہ کے اثر و رسوخ اور ایک ایسی حکومت کے وجود میں آنے سے خوفزدہ تھا جو ھندوستان کے زیر اثر ہو اس لئے اس نے جہادیوں کو ایک آلہ کار کی طرح استعمال کیا، جو نسبتا کم خرچ اور بیحد آرام سےحوادث کو افغانستان اور اسی طرح سے کشمیر کے جنجالی خطے میں کنٹرول کرنے کے لئے استفادہ کرتا تھا۔
ب۔: ایران دشمن ممالک کی طرف سے فوجی و مالی امداد کی فراہمی : حقیقت یہ ہے کہ یہ ممالک طالبان اور اس کے ضد شیعہ رجحان کو اپنی ایران کو کنٹرول کرنے کی سیاست کے عملی کرنے کی راہ میں دباو بنانے والے ہتھکنڈے کے طور دیکھتے تھے نہ کہ ایک دھشت گرد گروہ۔ امریکہ، سعودی عرب، اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک ایران کو مہار کرنے کی سیاست پر عمل پیرا تھے اور ان سب میں سعودی عرب کا کردار، دیوبندی مسلک کے بنیاد پرستوں کو وہابیت افکار و نظریات سے آشنا کرانا، زیادہ مخرب تھا۔ بہرحال ان ممالک کا مالی و فوجی تعاون سے انہیں جذب کرنا جو طالبان کی فوجی تربیت و تقویت کے لئے پاکستان کے حوالے کی جاتی تھی، پاکستان کے کمزور اقتصاد اور بڑی آبادی کے ساتھ ھندوستان سے رقابت کے لئے ایک حیاتی مسئلہ شمار ہوتا تھا۔ (جو آج بھی ہے۔)
امریکہ کا عراق پر حملہ
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مڈل ایسٹ پر حملے اور افغانستان و عراق پر تسلط کو مشرق وسطی میں مسلکی تنازعات و اختلافات کو گزشتہ صدیوں میں بد ترین ابتدائ سمجھنا چاہئے۔
عراق پر حملہ داخلی سیاست کے لحاظ سے حزب بعث کی ڈکٹیٹر شب کا خاتمہ، پارلیمینٹ کے الیکشن کا انعقاد اور ابراہیم جعفری کا شیعہ حکومت بنانا اور پھر نوری المالکی کی حکومت جس نے عراق میں سنی قدرت کے مطلقہ انحصار کا خاتمہ کر دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ واقعہ حزب بعث اور شیعہ حکومت مخالف سلفیوں کے حامیوں کے لئے جو کہ خود کو اس جدید عراق کے سیاسی حکومتی سیسٹم کا اصلی شکست خوردہ سمجھتے تھے، بہت مہنگا پڑا تھا۔
اور خارجہ پالیسی کے حساب سے عراق کے سیاسی نظام میں تبدیلی اس ملک کے ایران کے ساتھ روابط کا سبب بنے اور دونوں ملکوں کے تعلقات میں اضافہ ہونے لگا۔ عراق میں شیعہ حکومت بننے کے ساتھ ہی خلیج فارس کی محافظہ کار سنی حکومتیں جو خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کے سبب خوفزدہ تھیں، پورے خطے میں موازنہ قدرت کو ایران کے فائدے میں تبدیل ہوتے ہوئے دیکھ رہی تھیں، لہذا انہوں نے اپنی تمام تر استعمال کرنا شروع کر دیا تا کہ اس کا مقابلہ کر سکیں۔ اس مقابلہ کا ایک انتخاب سنی بنیاد پرستوں کی حمایت تھی کیوکہ وہ شیعوں کے بڑھتے اثر و رسوخ کو روکنے کو آئیڈیا لاجی کا مھم سرٹیفیکٹ تصور کرتے تھے جو ان کی اپنی حیات کی بقائ کی ضمانت بن سکتی تھی۔ حزب بعث کے بچے وابسطہ افراد کا ان گروہوں کے ساتھ ملحق ہوجانا، خاص طور پر بعثی فوج کے سربراہان جو بعثی صدامی حکومت کے سقوط کے بعد بدلا لئے جانے کے خوف سے فرار ہو چکے تھے انہوں نے ان گروہوں کی فوج کی بنیادوں کو تقویت پہچائی۔ عراق میں القاعدۃ جیسے گروہوں کے حملے جو انہوں نے شیعوں کے مقدس مقامات سامرا و کاظمین میں انجام دیئے وہ سب خلیجی ممالک کے مالی و فوجی مدد سے کئے گئے۔ یہ سنی اسلامی بنیاد پرستی کے نطفوں کی تشکیل کا واضح نمونہ تھی جو بعد میں داعش کی صورت میں ظاہر ہوا اور رشد پیدا کیا۔
سیریا کا بحران
مشرق وسطی کی معاشرتی و سماجی تاریخ میں قومی و مذہبی فرق کو شام کی جنگ میں غفلت و تساہل کی رواداری و وضعداری کے لئے سانحہ سمجھنا چاہئے۔ اگرچہ ملک میں اعتراضات کی ابتدائ غیر مذھبی اور سیاسی تنازع پر مبنی حلقوں سے ہوئی لیکن یہ لڑائی فائدہ اٹھانے والے ممالک کے اس بحران میں وارد ہونے کے بعد تیزی سے مسلکی رنگ میں رنگتی چلی گئی۔
ایران بشار اسد کو اسرائیل کے مقاومتی محاذ پر اپنا اسٹریٹیجک متحد مانتا ہے۔ شام ایران کے لئے ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے جو اسے اس کے حلیفوں جو اسرائیل سے فلسطین کے لئے ٹکر لے رہے ہیں ان سے جوڑتا ہے جیسے فلسطین میں (حماس) اور لبنان میں (حزب اللہ)۔ لہذا طبیعی ہے کہ خطے میں ایران کے رقبائ جیسے سعودی عرب، ٹرکی اور قطر بشار اسد کی حکومت کی سرنگونی اور مقاومت کے محور کو ٹوٹ جانے اور ایران کے روزانہ بڑھتے اثر و رسوخ سے مقابلہ کی راہ میں ایک بڑی کامیابی تصور کی جا سکتی ہے۔ امریکہ کے شام کے بحران میں داخل ہونے کے دلائل میں خطے میں ایران پر مہار، اسرائیل کی امنیت کا خیال، اور روس کے ساتھ رقابت کو شمار کیا جا سکتا ہے۔ تا کہ مشرق وسطی میں اپنی پکڑ کے دائرہ کو بڑھایا سکے۔
ان سیاسی مقاصد کے درمیان جو چیز مسلکی اختلافات کا سبب بنی وہ سعودی عرب و قطر جیسے ممالک کا ان اسلامی بنیاد پرستوں کا استعمال تھا جو انہوں نے اپنے منافع کے لئے اٹھایا، جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ سعودی عرب و ٹرکی و قطر نےایران و عراق و شام کے مواصلاتی خط کو قطع کرنے کی غرض سے داعش اور جبھۃ النصرۃ (جبھۃ الفتح الشام)، احرار الشام و ۔۔۔ جیسی تنظیموں کی مالی و فوجی مدد کی۔ مثال کے طور پر جون ۲۰۰۹ میں ریچرڈ ہالبروک جو امور افغانستان و پاکستان میں باراک اوباما کے مندوب خاص تھے انہوں نے بروکسل میں ناٹو کے مرکزی دفتر میں کہا کہ اگر چہ افغانستان کے طالبان کی سالانہ در آمد جو انہیں نشہ آور اشیائ کی اسمگرنگ سے حاصل ہوتی ہے ۴۰۰ ملین ڈالر ہے لیکن اس شورشی گروہ کی اصلی آمدنی ان امداد و تعاون پر ہے جو انہیں بیرونی ممالک سے ملتی ہے جن میں اکثر امداد خلیجی ممالک سے ملتی ہے۔
اسی طرح سے ان تحقیقات کے مطابق، جو کولمبیا یونیورسٹی کے ہیومن رایٹ مطالعات کے ادارے نے ۲۰۱۴ میں پیش کی ہے، ٹرکی کے چار ابعاد ۱۔ فوجی وسائل کی ترسیل ۲۔ لاجسٹک حمایت اور آمد و رفت کا راستہ ۳۔ فوجی تربیت ۴۔ میڈیکل امداد، داعش و جبھۃ النصرۃ کے گروہوں کے کرد فوجی دستوں سے ٹکراو کی صورت میں ٹرکی نے ان کی مدد کی ہے۔
در واقع، ان گروہوں کے اوپر سرمایہ گزاری اور ان کی مالی و فوجی امداد رسانی مذکورہ ممالک کی طرف سے، نہ وہ ان گروہوں کے ہم عقیدہ ہونے کے اعتبار سے ہے بلکہ بنیاد پرست گروہوں کی تقویت ان کے حامی و پیرو جذب کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے ہے تا کہ جنگ کی صورت میں کام آ سکیں۔ یہ ایسی سیاست رہی جس نے مشرق وسطی کے اندر عملی طور پر تنازع و اختلافات کی آگ میں جھونک دیا ہے۔
لہذا نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ دو سبب ایک امریکہ کا عراق پر حملہ ۲۰۰۳ میں اور خطے میں جدید مواقع کی تشکیل اور اسی طرح سے مشرق وسطی میں سعودی عرب و قطر جیسے ممالک کی امنیت کے باب میں اضافے اور خطے میں پکڑ بنانے کی سیاست، اصلی ترین علت ہے جس سے سلفی گری کی آئیڈیا لاجی کا فروغ ہوا اور اسلامی بنیاد پرست و مذہبی گروہوں کا رشد ہوا اور جس کے نتیجے میں متعدد مسلکی منازعات و اختلافات نے جنم لیا۔
Comments (0)
Comments powered by CComment