✍️ گلزارِ جعفری
کائنات کا بے نظیر و بے مثیل سورما جب اپنا نظیر و مثیل بنانے کے لیے اپنے لختِ جگر، نورِ نظر، شیر غضنفر، پیکر شجاعت و شہامت کو فنِ تلوار بازی سکھا رہا ہوگا تو چشم تصور اور زبان حال کچھ اس طرح سے ہوگا کہ کیسے قبضۂ شمشیر پر ہاتھ رکھا جاتا ہے، کس طرح اسے نیام سے بے نیام کیا جاتا ہے، اور پھر کس طرح اس کے وار سے کفر و نفاق کی نقاب کشائی کی جاتی ہے۔ حملہ کا انداز کیا ہوگا؟ بچاؤ کا طریقہ کیا ہو گا ؟ تلوار کی کاٹ کا سلیقہ کیا ہوگا؟ مقابل سے نظروں کو کیسے بچانا ہے؟ مقابل کی نظروں کو کیسے چرانا ہے؟ جذبات، اعصاب، غصّے پر کیسے قابو پانا ہے؟ غیظ کو کیسے پینا ہے؟ غضب کا اظہار کیسے کرنا ہے؟ تلوار کی ادا کیا ہو؟ کلائی کی کلا کا استعمال کیسے ہو؟ قدموں کی آہٹ سے کب استفادہ کرنا ہے؟ کب قدم بڑھانا ہے؟ کب قدم پیچھے ہٹانا ہے؟ تلوار کا دھنی مقابل میں ہو تو شمشیر کا اندازِ تکلّم کیا ہونا چاہیے؟ ہزاروں مقابل ہوں تو تلوار کو کتنا لہو پلانا چاہیے؟ لاشوں کے ڈھیر دیکھ کر نہ دل میں گھبراہٹ ہو، نہ جیت کی خوشی کے جوش میں ہوش کی رفتار ہاتھ سے جانے پائے۔ قلب کے معنی حقیقی میدانِ وغا میں غالب نہ آئیں، بلکہ مزاج کا استقرار، ثباتِ قدمی کے مظاہر میں کمی نہ واقع ہو۔ نہ خوفِ قتل سے دل میں ہراس ہو، نہ فتح و فلاح سے ایسی مسرت و شادمانی ہو کہ اگلی جنگوں کا منصوبہ خاک میں مل جائے اور لمحوں میں روح کی رخصتی اور لبوں سے جامِ شہادت بوسہ زن ہو جائے۔
ہر آن، ہر لمحہ اپنے شکار پر نظر رہے — چیتے کی پھرتی، عقاب کی نگاہ۔ گھوڑے پر بیٹھ کر جنگ کی ادا کیا ہو؟ رہوار کی رفتار کس قدر ہو؟ مہمیز کا انداز کیا ہو؟ تیر کا جواب تلوار سے کیسے دیا جائے؟ نیزے کے وار کو تلوار سے کیسے کاٹا جائے؟ کثرتِ افواج پر نگاہ کیسے رکھی جائے؟
کاوا کئے ہوئے فوج کی کایا کیسے پلٹائی جائے؟ چشمِ زدن میں سپاہ و لشکر کو کیسے فی النار کیا جائے؟
علیؑ کے حملے کا نرالا انداز اپنائیں کہ شمشیرِ حیدری کی رفتار کا سلیقہ یہ ہو کہ مقابل دو حصوں میں تقسیم ہو جائے؛ مرحب کا سر کٹے تو خود زینِ رہوار سب کو دو حصوں میں بانٹتی ہوئی، ذوالفقار زمین کے سینے پر پہنچے تو جبرئیلِ امین شہ پر بچھا دیں۔ برق رفتاری سے چلتی ہوئی ذوالفقار باطل کو کاٹتی ہوئی جب حق کے سینے پر پہنچے تو رک جائے، تاکہ سورما کا جوش اس کے ہوش کی عکاسی کرے۔ برق کا رکنا ممکن نہیں، مگر علیؑ کے ہاتھوں پر برق رفتاری سے چلنے والی تلوار اس لیے رک گئی کہ قرآن نے فرمایا:
> ﴿وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾
(سورۃ البقرۃ، آیت 42)
ترجمہ: “اور حق کو باطل کے ساتھ خلط نہ کرو، اور حق کو نہ چھپاؤ جبکہ تم جانتے ہو۔”
یعنی باطل کٹ جائے، حق بچ جائے، تاکہ دونوں میں خلطِ ملاط نہ ہو — یہی منزلِ کمال کا نشانِ حق ہے۔ جنگ میں قصیدۂ مدحتِ سورمائی اور تلوار کی عظمت کے لیے نازل ہوتا ہے تو جس کے پَر بچے، اسی نے چیخ کر کہا:
> لَا فَتَىٰ إِلَّا عَلِيٌّ، وَلَا سَيْفَ إِلَّا ذُو الْفِقَارِ
(تاریخِ دمشق، ابن عساکر، ج 42، ص 436؛ نیز: مناقب آل ابی طالب، ابن شہرآشوب، ج 2، ص 209)
جب علیؑ جیسا تلوار کا دھنی، تلوار کے فن کو اس سورما کو سکھا رہا ہو، تو وہ جوہرِ شجاعت جو دنیا نے بچپن میں بھی دیکھا، جوانی میں بھی اس کی ہیبت و جلالت قائم رہی، جب تک چشمِ شجاعت کھلی رہے گی کسی دشمن کی آنکھ میں چین نہ آئے گا۔
اب شیرِ الٰہی، بہادرِ جری نے سکھانا شروع کیا تو تصور کہتا ہے کہ فرمایا ہوگا:
دیکھو، وقتِ وغا میں نگاہوں کی پاکیزگی ہو، قلب میں طہارت، ارادہ میں صلابت، مزاج میں پختگی، قدموں میں ثبات، ہاتھوں کی مٹھیوں میں تلوار۔ نگاہوں میں خلوص، ضمیر میں معرفت، مقصد میں قوّت، اور پورا وجود سراپا عبدیت کے سانچے میں ڈھلا ہو۔ مکمل وجود اطاعتِ خدا و امام کے لیے آمادہ ہو۔ نگاہِ شوق اٹھے تو حلقۂ امام میں، تلوار چلے تو اجازتِ امام سے، تلوار رکے تو اشارۂ امام سے، شمشیر آگ اگلے تو حکمِ امام پر، تلوار ٹوٹ جائے تو مرضیِ امام سے۔ نیزے سے جنگ کی خواہش ہو تو لب سی لینا، نگاہ کو نیچا رکھنا، فن کو قربان کرنا، امامت پر جان نثار کرنا، بھائی کا کلام سننا، بحث نہ کرنا، آقا کی حکمت کو اپنی قسمت سمجھنا۔
الٰہی منصب پر فائز امام کی حکمت کو ہی عدالتِ الٰہی کا فیصلہ سمجھنا۔ بہادری صرف دشمن کا سر کاٹنا نہیں ہے بلکہ بہادر ترین انسان وہ ہے جو اپنی خواہشوں پر قابو پائے۔ جذبات قربان ہو جائیں، تمناؤں کا خاتمہ ہوجائے۔ تلوار سے کھینچا ہوا خط زینبؑ کے اشارے سے مٹا دیا جائے۔ میرے شیر! مصیبتوں میں صبر، مشکلوں میں رضایت رب قدیر اور — امام بصیر ہی تیرے لیے حرفِ آخر ہے۔
جب رجز خوانی کرنا تو آواز کے ساز میں وہ گھن گرج ہو کہ نسلی بھگوڑے شعر میں شیر کی دھاڑ سن کر میدان چھوڑ دیں۔
لہجہ کی لطافت اور اندازِ تکلّم ایسا ہو کہ لبوں کی کمان سے ہدایت کے تیر قلبِ دشمن کو چھید ڈالیں۔ فصاحت و بلاغت تمہارے لہجہ کا طواف کرنے لگے، تشبیہات و استعارات قربان ہونے لگیں، شاعری خود قصیدہ کہہ کر نثار ہونے لگے۔ لفظوں کی نشست و برخاست سے دشمن کا دل دہلنے لگے۔ اندازِ گویائی ایسا ہو کہ بازارِ عکاظ، جو مکہ کا محورِ فصاحت و بلاغت ہے، تمہارے رہوار کے قدموں کی دھول چاٹے۔
ادباء، بلغاء، فصحاء تمہاری رجز خوانی سے گونگے نظر آئیں؛ بہادر تمہارے بیان سے پسپا ہوتے چلے جائیں۔ تلوار سے پہلے لفظوں کے تیر لبوں کی کمان سے ایسے چلانا کہ ہر دشمن زخمی ہو اور ہر با ضمیر کو تمہارے نہجِ بلاغت سے شریعت و طریقت پتہ چلے، تاکہ با ضمیر بہادر ضمیر کی عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کر لے۔ قدم پیچھے کیے بغیر شمشیر کو لہو پلانے سے پہلے رجز کے الفاظ سے اتمامِ حجت کر دینا تاکہ روزِ محشر کسی کو عذرِ خواہی کی اجازت نہ ہو۔ رجز ایسا ہو کہ ساری صنفِ سخن صدقہ اتارے، ساری تہذیب و تمدّن تمہاری پیشانی کا بوسہ لے۔ خود لبوں سے نکلے ہوئے الفاظ لب بوسی کریں، حرفوں کی روحانیت تم پر قربانی کے لیے مچلنے لگے، شمس و قمر کی روانی تمہارے رہوار کے قدم چومے، ستاروں کی گردش تمہارے رجز کی نظر اتارے۔
میرے لال! تمہیں میں تلوار کا ہر فن سکھاؤں گا — تلوار سے دھول کیسے برطرف کی جاتی ہے، پھول کی پنکھڑی کیسے کاٹی جاتی ہے، موم کی کاٹ کا انداز کیا ہے، چراغ کی لو کیسے کاٹنی ہے، مقابل کو برابر سے کیسے تقسیم کرنا ہے۔ تم تلوار کی آواز بھی سنو، ہوا کے دوش پر تلوار کی رفتار کو رکھو؛ طوفان تمہاری تلوار کے سامنے تھم جائیں، موجوں کے تلاطم کو تلوار سے پاٹ دو۔
اور جب اس قدر تعلیم و تربیت سے کسی شیر کو آمادہ کر دیا جائے تو حق ہے اس جری کا کہ پوچھے:
“میدانِ صفین میں، بابا! نہر سے پانی لانا ہے یا نہرِ فرات کو خیمے تک کاٹ کر لانا ہے؟”
اس جملے کی قیمت کا اندازہ نہ ہوتا اگر شیرِ نیستانِ حیدرِ کربلا میں شدتِ پیاس اور تمازتِ آفتاب کے بعد بھی شہرِ عطش میں سبیلِ آب کے لیے نو عدد کنویں نہ کھودتا۔ جو اس عالم میں کنویں کھود سکتا ہے، وہ تلوار کا ایسا دھنی ہے جو بارہ برس کی عمر میں نہرِ فرات کاٹ کر بھی لا سکتا ہے۔
شاید یہی رازِ سربستہ تھا کہ حسین ابنِ علیؑ نے شیر کی شمشیر کو گھٹنے پر رکھ کر توڑ دیا، اور ٹوٹا ہوا نیزہ اس کے دستِ مقدس میں دیا تاکہ بجائے سبیلِ آب، حضرت عباسِ غازی فرات کو کاٹ کر خیمے تک نہ پہنچا دیں، اور صفین کی دبی ہوئی تمنا کا خواب کربلا میں عیاں نہ ہو۔ لہٰذا اس فنِ اظہار کے لیے عباس غازی کی طاقت کو کنویں کھودنے میں تقسیم کر دیا گیا تاکہ جذبات کی جنگ پہلے میرا شیر جیتے۔ پھر نیزے کا فن دکھا کر شیرِ مادری اور انتخابِ حیدری، جو شجاع خاندان میں عقد کے ذریعہ ہوا تھا، اس کی تفسیر و تاویل کربلا میں عملی جامہ پہن سکے۔
اور یہ منظر بھی دنیا دیکھے کہ بنی ہاشم اپنا نام و نمود، شہرت و شجاعت دنیا پر آشکارا نہیں کرتے بلکہ بسا اوقات دوسرے خاندانوں کے فنون بھی ظاہر کر دیتے ہیں؛ جیسے کربلا میں عباس ابنِ علیؑ نے بنی کلاب کی نیزہ برداری کی شجاعت و شہامت اور فن کو آشکارا کیا تاکہ دنیا دیکھے کہ جس ماں نے اپنی زندگی کا حسن نچوڑ کر شیر کو شیر پلایا تھا، حضرت عباس غازیؑ نے اس کا حق کربلا میں ادا کر دیا۔ بنی کلاب کے خاندان کی لاج بھی رکھ لی، بنی ہاشم کے مقاصد کی تکمیل بھی کر دی، اور علیؑ کی کربلا میں نیابت و شباہت کا حقیقی حق ادا کر دیا۔
فنِ تلوار بازی کو قربان بھی کر دیا، جس کا صلہ قدرت نے یہ دیا کہ بازوؤں کے کٹ جانے کے بعد بھی علمِ غازی ہر ملک میں لہرانے لگا، اور اس علم کے قد و قامت کو عباسِ جری نے وہ عروج دیا کہ قیامت تک جسے زوال ممکن نہیں۔ اس طرح باپ کی تربیت اور ماں کے خاندانی وقار کو بچاتے ہوئے اپنے دونوں بازو راہِ ربِ قدیر میں پیش کر دئے اور اس کی مکمل تفسیر اپنے وجود میں سمو لی:
اور آج تک دنیائے شجاعت کا ہر دھنی اسی پرچم کے سایہ میں آنا چاہتا ہے جب دنیا کا ضمیر فروش میڈیا یہ پروپیگنڈہ کر رہا تھا کہ رہبر معظم حضرت سید علی خامنہ ایک مد ظلہ العالی ایران چھوڑ کر بھاگ جائیں گے تو رہبر نے صاف لفظوں میں یہ بیان دیا تھا کہ میں ابو الفضل العباس کے پرچم کے زیر سایہ کھڑا ہوں کسی پرچم کے تلے نہیں جا سکتا جو اس بات کی علامت ہیکہ جس طرح شہر نیستان حیدری نے سب کچھ قربان کردیا اسی طرح رہبر دونوں ہاتھوں کی قربانی کے ساتھ مکمل شہادت دینے کو تیار ہیں مگر اس پرچم کو چھوڑ کر جانا ممکن نہیں ہے
عظمت غازی یہ بھی ہیکہ اج بھی انکی شجاعت کی راہ بہادروں کے لئے مشعلِ راہ ہدایت ہے اور شہید زندہ جاوید ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے
> ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًاۢ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾
(سورۃ آلِ عمران، آیت 169)
ترجمہ: “اور تم ہرگز یہ نہ سمجھو کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے ہیں وہ مردہ ہیں، بلکہ وہ اپنے رب کے حضور زندہ ہیں اور رزق پاتے ہیں۔”
--
ماخذ و مختصر حوالہ جات:
1. قرآن کریم:
سورۃ البقرۃ، آیت 42
سورۃ آلِ عمران، آیت 169
2. روایات و تاریخی مصادر:
تاریخ دمشق، ابن عساکر، ج 42، ص 436
مناقب آلِ ابی طالب، ابنِ شہرآشوب، ج 2، ص 209
الارشاد، شیخ مفید، ج 2، ص 92
مقتل الحسینؑ، خوارزمی، ج 2، ص 36
لہوف فی قتلی الطفوف، سید ابنِ طاؤس، ص 59
عظمتِ غازی اور تربیتِ تلوار بازی
Typography
- Smaller Small Medium Big Bigger
- Default Helvetica Segoe Georgia Times
- Reading Mode
Comments powered by CComment