عدل الہی

اصول دین
Typography
  • Smaller Small Medium Big Bigger
  • Default Helvetica Segoe Georgia Times

ہم اللہ کے عدل کے قائل ہیں

 ہمارامانناہے کہ اللہ کااپنے بندوں پرظلم کرنا،کسی دلیل کے بغیران کوسزایامعاف کرنا،اپنے وعدے کووفانہ کرنا،کسی گنہگارانسان کومنصب نبوت عطاکرکے اپنے معجزات اس کے اختیارمیں دینا،محال ہے۔ یہ بھی معلوم ہے کہ اس نے اپنے جن بندوںکوسعادت کی راہ طے کرنے کے لئے خلق کیاہے،ان کو کسی ہادی کے بغیرچھوڑدے کیونکہ یہ سب کام قبیح (برے) ہیں اوراللہ برے کام انجام نہیں دیتا۔ عدل الہی جیساکہ پہلے بھی اشارہ کیاجاچکاہے کہ ہم اللہ کے عادل ہونے کے قائل ہیں اورہمارااس بات پریقین ہے کہ اللہ اپنے بندوں پرکسی بھی طرح کاکوئی ظلم نہیں کرتاہے کیونکہ ظلم ایک براکام ہے اوراللہ ہربرے کام سے پاک ہے ”ولایظلم ربک احد“ (۱)یعنی تمہارارب کسی پربھی ظلم نہیں کرتا۔ اگرکوئی انسان اس دنیایاآخرت میں کسی مصیبت میں گرفتارہوتاہے،تووہ خوداس کے اعمال کانتیجہ ہوتاہے ”فماکان اللہ لیظلمہم ولکن کانواانفسہم یظلمون“(۲) یعنی اللہ نے ان پر(وہ گذشتہ امتوں جواللہ کے عذاب میں مبتلاہوئی) ظلم نہیں کیا،بلکہ انہوں نے خوداپنے نفسوں پرظلم کیا۔ اللہ صرف انسانوں پرہی نہیں بلکہ اس دنیامیں موجودکسی بھی چیزپرظلم نہین کرتا”ومااللہ یریدظلمن للعالمین“ (۳) یعنی اللہ کسی بھی موجودپرظلم نہیں کرناچاہتا۔ یہ تمام آیتیں عقل کی تائیدکرتی ہیں۔

Comments powered by CComment

Grid List

Read more ...

Comments powered by CComment