ولايت اور قرآن

مختلف قرآنی مقالات
Typography
  • Smaller Small Medium Big Bigger
  • Default Helvetica Segoe Georgia Times

 بر صغير کے مسلمانوں کے لئے ولايت کا موضوع کافي دلچسپ اور جاذب رہا ہے۔ خصوصاً شيعہ حضرات تو اس لفظ پر دل و جان سے قربان ہوتے ہيں۔اہل تسنن گر چہ خلافت ميں اختلاف رکھتے ہيں ليکن و لايت کويہ حضرات بھي مانتے ہيں مخصوصا صوفي حضرات کے يہاںولايت کا مفہوم بڑي آب و تاب سے پايا جاتا ہے ۔ہا ں ا تنا ضرور ہے کہ ولايت کے ان تمام پہلوؤں کو نہيں مانتے جنہيں شيعہ حضرات تسليم کرتے ہيں۔ ليکن برصغیر ميں مسلمانوں کے دونوں فرقوں کے يہاں لفظ ولايت سے جوانکے ذہنوں ميں متبادرہوتاہے وہ مولائے کائنات کي ولايت ہے ۔

متن:

  

 مگر پيش نظر مضمون کا عنوان کيونکہ ولايت اور قرآن ہے اس لئے اس عنوان ميں ولايت کے اس وسيع مفہوم سے بحث کي جائے گي جو قرآن مجید ميں استعمال ہوا ہے ۔ قرآن ميں ولايت مثبت اور منفي دونوں معنوں ميں مستعمل ہے ۔قرآ ن کريم ميں بعض افراد وہ ہیںجنکي ولايت و سرپرستي کو قبول کرنے سے روکا گيا ہے جبکہ بعض افراد کي ولايت کو قبول کرنے کا حکم ديا گيا ہے ۔اس اعتبار سے مثبت ولايت قرآن شريف ميں خدا وند عالم ،پيامبران الٰہي خصوصا نبي خاتم ۰ اور ائمہ معصومين ?سے مخصوص ہے ۔ اور عصر غيبت ميں اس ولايت کا تسلسل فقيہ کي ولايت سے جا ملتا ہے ۔ اس مقالے ميں اس بات کي کوشش کي جا ئے گي کہ ولايت کے تمام پہلوؤں سے متعلق حتي الامکان گفتگو کي جائے اور اس کے نتائج واثرات کو بھي قارئين کي خدمت ميں پيش کيا جائے گا۔

قرآن ميں لفظ ولايت اور اسکے مشتقات

قرآن ميں کلمہ ولايت اور اسکے مشتقات مفرد وجمع اسم و فعل کي مختلف صورتوں ميں ذکر ہوئے ہيں۔ ولي، ولايت،ولائ،موليٰ،اوليائ،اوليٰ اورانھيںکے مانند دوسرے الفاظ جو مادئہ (و ل ي )سے مشتق ہيں قرآن شريف ميں تقريبا ٢٣٦ جگہ استعمال ہوئے ہيں۔ ١٢٤ جگہ اسم کي شکل ميں اور ١١٢ دفعہ فعل کے قالب ميں۔قرآن حکيم ميں اس کلمہ کاکثرت سے استعمال ہونا اس بات کي دليل ہے کہ يہ لفظ ايک خاص اہميت کا حا مل ہے اس بنا پر لازم ہے کہ اس کے مختلف پہلوؤں کادقت نظرکے ساتھ مطالعہ کيا جائے تاکہ اسکے حقيقي روپ کواجاگر کيا جاسکے۔

ولايت کے معاني

لغت ميں ولايت کے مختلف معاني بيان ہوئے ہيں۔ ملک اقليم،سلطنت،مملکت کسي کام کي ذمہ داري، کفالت،سرپرست ہونا،ولي ہونا۔(١)

کلمہ ولايت کے اصلي معني جيسا کہ راغب نے مفردات القرآن ميں لکھا ہے :دو چيزوں کا اسطرح ہم پہلو قرار پانا کہ انکے درميان کو ئي فاصلہ نہ رہے ؛ اسي سبب سے يہ کلمہ قرب مکاني قرب ياقرب معنوي نيز دوستي ،نصرت اور کفالت جيسے معاني ميں بھي استعمال ہوا ہے۔

راغب نے مورد استعمال کے اعتبار سے کلمہ ولایت کے معني کچھ اسطرح بيان کئے ہيں:

' وِلايت (اگر واو مکسور ہو تو) نصرت کے معني ميں ہے اور یہي لفظ (اگر واو مفتوح ہو تو)کسي کام کے صاحب اختيار و ذمہ دار ہونے کے معني ميں ہوتا ہے ‘‘(٢)

استاد جواد آملي ولايت کے معاني تحرير کرتے ہوئے فرماتے ہيںکہ متوالي امور کے درميان ايک خاص ارتباط کا پا يا جاناضروري ہے لہذا دوچيزوں کے درميان اگرکوئي رابطہ نہ پايا جائے جيسے انسان کے نزديک کوئي پتھر پڑا ہو تواس کو ولائي رابطہ نہيں کہا جا سکتا۔اب يہ رابطہ کبھي يک طرفہ ہوتا ہے اور کبھي متقابل اور دو طرفہ اگروَلايت (واو مفتوح) ہو تو اس کے معني يہ ہيں کہ دو چيزوں کے درميان ارتباط وتاثير ، يک جانبہ ہے يعني ان ميں سے پہلا والا تو دوسرے کا ولي ہے ليکن دوسرا پہلے والے کا مولّي عليہ ہے يعني اسکے زير سايہ اور ولايت کے ماتحت ہے۔ ليکن اگر ولايت(واو مکسور)ہو تودوچيزوں کے درميان رابطہ دوطرفہ ہوگا جيسے اخوت اور برادري کا رابطہ ( ٣)

قرآن کريم ميں ولايت کے اقسام:قرآن کريم کے مطالعہ سے مجموعي طورپر جوبات سمجھ ميں آتي ہے وہ يہ ہے کہ اسلام کي نگاہ ميںولايت دوقسم کي ہوتي ہے(١)مثبت(٢)منفي

منفي ولايت: وہ ولايت ہے جس ميں مسلمانوں کو حکم ديا گيا ہے کہ وہ بعض افراد کي ولايت قبول نہ کريں اور انکي سرپرستي ميں زندگي نہ گذاريں ۔ 

ياايھا الذين آمنوالاتتخذوا عدوي وعدوکم اوليائ تلقون اليھم بالمودۃ وقد کفروا بما جائ کم من الحق(٤)اے ايمان والو خبردار !ميرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بنانا کہ تم انکي طرف دوستي کي پيش کش کرو جبکہ انہوں نے اس حق کا انکار کرديا ہے جو تمہارے پاس آچکاہے۔

مثبت ولايت : وہ ولايت ہے جس ميں مسلمانوں کو دعوت دي گئي ہے کہ وہ بعض افراد کي ولايت کوقبول کريں اور انکي سرپرستي ميں زندگي بسرکريں ،مثبت ولايت کي بھي دوقسميں ہيں۔

(١)ولايت عام: والمومنون والمومنات بعضھم اوليائ بعض يامرون بالمعروف وينھون عن المنکر(٥) مومن مرد اور مومن عورتيں آپس ميں سب ايک دوسرے کے ولي ومددگار ہيں کہ يہ سب ايک دوسروں کو نيکيوں کا حکم ديتے ہيں اور برائيوں سے روکتے ہيں۔

(٢)ولايت خاص:انما وليکم اللہ ورسولہ والذين منوا الذين يقيمون الصلوۃ ويوتون الزکاۃ وھم راکعون(٦)ايمان والو بس تمہارا ولي،اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ صاحبان ايمان جو نمازقائم کرتے ہيں اور حالت رکوع ميںزکوۃ ديتے ہيں۔ ولايت خاص کي بھي مختلف قسميں ہيں جيسے ولايت تکويني وولايت تشريعي ،ولايت امامت و زعامت وغيرہ۔

 

حوالے:

(١)فيروزاللغات ص

(٢)المفردات في الفاظ القرآن ص٨٨٥

(٣)ولايت در قرآن ص ١٦، ١٧

(٤)سورئہ ممتحنہ آيت ١،٢

(٥)سورئہ توبہ آيت ٧١

(٦)سورئہ مائدہ آيت ٥٥

 

  http://shiastudies.net/

 

  

Comments powered by CComment

Grid List